غیر محرم سے بات اور دوستی کرنا
اسلام میں بغیر نکاح کئے لڑکے اور لڑکیوں میں دوستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر عورتوں کو غیر محرم مردوں سے بات کرنےکی ضرورت پڑ جائے تو انتہائی محتاط انداز ہ کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے
يٰـنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَـلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo
الاحزاب، 33: 32
حدیث مبارکہ میں ہے:
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ إِيَاکُمْ وَالدُّخُولَ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اﷲِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تنہا عورت (نامحرم) کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔ انصار سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! دیور کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمایا: دیور تو موت ہے۔
(بخاري، الصحيح، )
لہٰذا بغیر نکاح کے لڑکوں اور لڑکیوں کا والدین سے چھپ کر ملاقاتیں کرنا حرام عمل ہے۔ کیونکہ یہی ملاقاتیں زنا کا سبب بنتی ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے زنا کے سدّباب کے لیے اس طرح کے تمام راستوں کو روکا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً.
اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے۔
بَنِيْ إِسْرَآءِيْل، 17: 32
اسلام نے اختلاط مرد و زن کے درج ذیل آداب سکھائے ہیں:
١۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ پہلے اجازت مانگنی چاہیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے ، اس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے۔
٢۔ عورتیں اور مرد ایک دوسرے سے اپنی نظریں بچا کر رکھیں۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے ، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں۔ نہ وہ باہم نگاہ بھر کر دیکھیں اور نہ اپنی نگاہوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد چھوڑ دیں۔ اس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کا زنا ہے اور یہی وہ نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اسے فوراً پھیر لینا چاہیے۔
جریربن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا : اس طرح کی نگاہ اچانک پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا : فوراً نگاہ پھیر لو یا نیچی کر لو۔
٣۔ باہمی میل جول کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے
4۔ عورتوں کے لیے ، بالخصوص ضروری ہے کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔''
موبائل ٹی وی کا غلط استعمال
یا کوئی بھی گناہ...... گناہ وہ جو آپ کےسینے میں کھٹکے اور آپ کو برا لگے کہ لوگوں کو یہ پتہ چلے
رات کے اندھیرے اور تنہائی کا فائدہ اٹھا کرنہ کریں
کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے یعنی ہماراہر کام اس کے علم میں ہے
نامحرم جتنا بھی اعلیٰ اخلاق کا حامل ہو مگر ہوتا نامحرم ہی ہے...!*
*اس لیے کسی نامحرم کے لیے بلِا جھجک دِل کے اور گھر کے دروازے کھول دینا تباہیوں کا
سبب بن سکتا ہے...!
محبتوں کے اساس لہجے
حقیقتوں کے عکاس لہجے
اے بنتِ حوا سنبھل کےچلنا
فریب ہیں یہ مٹھاس لہجے۔۔
-
Hope this will be applied in our society,,,,in sh All
ReplyDeletemay Allah SWT guide us to the right path
DeleteAllah SWT hamai iss par pura utarnai ki tawfeeq ata karai
ReplyDeleteMay HE reward u people with jannah