Posts

Showing posts from September, 2020

غیر ‏محرم ‏سے ‏بات اور ‏دوستی ‏کرنا ‏

اسلام میں بغیر نکاح کئے لڑکے اور لڑکیوں میں دوستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر عورتوں کو غیر محرم مردوں سے بات کرنےکی ضرورت پڑ جائے تو انتہائی محتاط انداز ہ کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے  يٰـنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَـلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo الاحزاب، 33: 32 حدیث مبارکہ میں ہے: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ إِيَاکُمْ وَالدُّخُولَ عَلَی النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اﷲِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ. حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تنہا عورت (نامحرم) کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔ انصار سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! دیور کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمایا: دیور تو موت ہے۔              (بخاري، الصحيح ، ) لہٰذا بغیر نکاح کے لڑکوں اور لڑکیوں کا والدین سے چھپ کر مل...

محرم ‏کون ‏ہے ‏

عورت اپنے محرم مردوں سے پردہ نہیں کرے گی ۔ اورعورت کا محرم وہ ہے جس سے اس کانکاح قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کےلیے حرام ہو ( مثلا باپ دادا اوراس سے بھی اوپر والے ، بیٹا پوتا اوران کی نسل ، چچا ، ماموں ، بھائي ، بھتیجا ، بھانجا ) یا پھر رضاعت کے سبب سے نکاح حرام ہو ( مثلا رضاعی بھائي ، اوررضاعی باپ ) یا پھر مصاہرت ( شادی ) کی وجہ سے نکاح حرام ہوجائے ( مثلا والدہ کا خاوند ، سسر ، اگرچہ اس سے بھی اوپر والی نسل کے ہوں ، اورخاوند کا بیٹا اوراس کی نسل عورت کے محرم کی تفصیل کا بیان صورت نور آیات 31 میں درج ہے اوراپنی زینت کوظاہر نہ کریں سوائے اس کےجوظاہر ہے ، اوراپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ، اوراپنی زیب وآرائش کوکسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکرمردوں سے جوشہوت والے نہ ہوں ، یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہيں ۔۔۔ النور ( 31 )۔ مفسرین حضرات کا کہنا ہے کہ نسب...

عورت ‏کا ‏پردہ ‏کس ‏سے ‏اور ‏کیسا ‏

شریعت اسلامی میں عورتوں کے مردوں کے ساتھ اختلاط اور ان کے سامنے بے محابا آنے جانے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اسی لیے اجنبی مردوں سے عورتوں کو مکمل پردہ کرنے کا حکم دیا گیاہے، اور وہ پورے بدن کا پردہ ہے اس میں کسی بھی عضو کا استثناء نہیں، ہاتھ، پاوٴں چہرہ سب کا حجاب ہے بلکہ آواز کا بھی حجاب ہے اس لیے ہر عورت پر ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کا کوئی بھی حصہ کسی بھی اجنبی مرد کے سامنے کھلا نہ رکھے اور نہ اپنی آواز سنائے، (فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِی فِی قَلْبِہِ مَرَضٌ۔ القرآن پ: ۲۲) (۲) ہاں البتہ اپنے محارم (جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے) کے سامنے چہرہ دونوں ہاتھ اور پنڈلیاں چھپانا ضروری نہیں، اسی طرح سینہ اور اس کے مقابل پیٹھ کا حصہ بوقت ضرورت کھل جائے تو کچھ حرج نہیں لیکن سینہ و پیٹھ چھپائے رکھنا ہی بہتر ہے، ان کے علاوہ بقیہ اعضاء کا محارم سے بھی چھپانا ضروری ہے

پردہ ‏کی ‏اہمیّت ‏قرآن ‏و ‏احادیث ‏کی ‏روشنی ‏میں

پردہ كے متعلق آيات كريمہ: وَقُل لِّلْمُؤْمِنَٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَٰرِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ءَابَآئِهِنَّ أَوْ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَآئِهِنَّ أَوْ أَبْنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوْ نِسَآئِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيْرِ أُو۟لِى ٱلْإِرْبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفْلِ ٱلَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا۟ عَلَىٰ عَوْرَٰتِ ٱلنِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ  - اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى ...