عورت کا پردہ کس سے اور کیسا
شریعت اسلامی میں عورتوں کے مردوں کے ساتھ اختلاط اور ان کے سامنے بے محابا آنے جانے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اسی لیے اجنبی مردوں سے عورتوں کو مکمل پردہ کرنے کا حکم دیا گیاہے، اور وہ پورے بدن کا پردہ ہے اس میں کسی بھی عضو کا استثناء نہیں، ہاتھ، پاوٴں چہرہ سب کا حجاب ہے بلکہ آواز کا بھی حجاب ہے اس لیے ہر عورت پر ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کا کوئی بھی حصہ کسی بھی اجنبی مرد کے سامنے کھلا نہ رکھے اور نہ اپنی آواز سنائے، (فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِی فِی قَلْبِہِ مَرَضٌ۔ القرآن پ: ۲۲)
(۲) ہاں البتہ اپنے محارم (جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے) کے سامنے چہرہ دونوں ہاتھ اور پنڈلیاں چھپانا ضروری نہیں، اسی طرح سینہ اور اس کے مقابل پیٹھ کا حصہ بوقت ضرورت کھل جائے تو کچھ حرج نہیں لیکن سینہ و پیٹھ چھپائے رکھنا ہی بہتر ہے، ان کے علاوہ بقیہ اعضاء کا محارم سے بھی چھپانا ضروری ہے
Comments
Post a Comment